مجلس تحقیقات شرعیہ

مجلس تحقیقات شرعیہ
جدید مسائل کے سلسلہ میں احکام شرعیہ کی تحقیق وتعیین کے لیے ندوۃ العلماء کے سابق ناظم حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی صدارت میں مسلمانوں کی شرعی ودینی رہنمائی کے لیے ملک کے اہل علم حضرات پر مشمل ایک مجلس ترتیب دی گئی تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ دور حاضر کے پیدا کردہ مسائل میں مجلس غور وخوض کرکے رائے قائم کرے، اس مجلس کے ارکان میں ملک کے اکثر ماہرین فقہ وشریعت شامل رہے ہیں، اس مجلس نے متعدد شرعی مسائل پر اہم تجاویز اور تحقیقات پیش کیں جو مقبول ہوئیں۔
پہلے صرف اس کا ایک دفتر قائم تھا جو حسب ضرورت مفوضہ کام انجام دیتا تھا، فروری ۲۰۲۰ء میں اس مجلس کا دوبارہ احیاء کیا گیا اور اس نے باضابطہ کام کرنا شروع کیا، مختصر مدت میں اس ادارہ نے کئی تحقیقی کتابیں، پمفلٹ اور رسالے شائع کیے جو اسکے مقاصد کی ترجمانی کرتے ہیں اور دیگر تحقیقی مقالات کی ترتیب وتبویب کا عمل جاری ہے، اس کے ساتھ فیملی لا پر ماہانہ خطبات کا سلسلہ ہے جس میں علماء اور وکلاء شریک ہوتے ہیں اور باہم تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
مجلس کے زیر اہتمام لیگل لٹریسی پروگرام کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے جس سے طلبہ کو ملک کے قانون سے واقفیت حاصل ہورہی ہے، اسی طرح وکلاء کے سامنے تفہیم شریعت کے مستقل پروگرام کیے جاتے ہیں جس سے غلط فہمیاں دور ہورہی ہیں۔ نیز اہم فقہی موضوع پر سالانہ سیمینار کا بھی نظم ہے۔ اس شعبہ کے تحت فتاوی ندوۃ العلماء کی ترتیب وتدوین کا کام بھی ہے جس کی پانچ جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور مزید جلدوں کا کام جاری ہے۔
مجلس کے تحت بحث وتحقیق کی تربیت کا بھی نظام بنایا گیا ہے جس کے لیے ممتاز ندوی فضلاء کو منتخب کیا جاتا ہے، ان کے لیے جہاں منتخب کتابوں کے مطالعہ اور ان کی تلخیص کو لازم کیا گیا ہے، وہیں ان کو اہم فتاوی کی تحقیق وتبویب کی ذمہ داری بھی دی جاتی ہے اور ان کو ماہانہ وقیع وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ مجلس کی جانب سے ایک علمی وتحقیقی سہ ماہی مجلہ بھی شائع کیا جاتا ہے، جو اہلِ علم ونظر کے استفادے کے لیے مجلس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔