مجلس صحافت ونشریات
یہ مجلس ندوۃالعلماء کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، لیکن ندوۃالعلماء کے ناظم اور متعدد فضلاء ا س کے مؤسس اور روح رواں ہیں، مجلس صحافت کے قیام کا مقصد ندوۃالعلماء کے فکر و اصول کے مطابق دعوتی و اشاعتی کام انجام دینا ہے، اس کے تحت کئی رسالے شائع ہوتے ہیں۔

البعث الاسلامی
عرب دنیا کو فکر اسلامی کا پیغام پہنچانے کے لیے اس عربی رسالہ کو ۱۹۵۵ء میں مولانا سید محمد الحسنی مرحوم نے اپنے چند رفقاء کے ساتھ جاری کیا تھا اور انتقال (۱۹۷۹ء) تک وہ اپنے رفیق کار مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے ساتھ ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے، ان کے انتقال کے بعد مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی متوفی ۱۶؍ جنوری ۲۰۱۹ء (سابق معتمد تعلیم ندوۃ العلماء) رفیق ادارت مقرر ہوئے، اس وقت ڈاکٹر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی (مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء) اس کے رئیس التحریر ہیں اور سابق ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے انتقال (۲۰۲۳ء) کے بعد مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی مدظلہ اس کے مشرف عام ہیں، اس میں ہند وعرب کے اہل قلم علماء و فضلاء کے مضامین شائع ہوتے ہیں، الحمدللہ یہ پرچہ ہند وپاک کے علاوہ ممالک عربیہ میں کافی شہرت رکھتا ہے، اور اس کا شمار صف اول کے دینی پرچوں میں کیا جاتا ہے، عراق، حجاز، کویت، لبنان وغیرہ کے دینی ماہنامے اس کے مضامین نقل کرتے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ ان ممالک میں ”البعث الاسلامی‘‘ کا ایک وقیع حلقہ پیدا ہو گیا ہے، دو ہزار اس کے خریدار ہیں، اس کے علاوہ خاصی تعداد میں یہ پرچہ اعزازی اور تبادلہ میں جاتا ہے۔

الرائد
ہند وپاک سے نکلنے والا سب سے پہلا عربی پندرہ روزہ اخبار ہے جس کو ۱۹۵۹ء میں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (سابق ناظم ندوۃ العلماء) نے جاری کیا، اس کی ادارت کی ذمہ داری مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی معتمد تعلیم ندوۃ العلماء نے انجام دی جو تقریبا ۳۵؍سال اس کے رئیس التحریر رہے ان کے انتقال کے بعد اس کے رئیس التحریر مولانا جعفر مسعود حسنی ندوی مقرر ہوئے، اور ان کے انتقال کے بعد اس کے رئیس التحریر مولانا محمد وثیق ندوی مقرر ہوئے۔ یہ پرچہ طلباء اور نوجوان اہل قلم کو تازہ عربی صحافت میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اور اپنی تاریخ اجرا سے تا حال ایک کامیاب جریدہ کی حیثیت سے کام کر رہا ہے، عالم اسلام کی دینی وعلمی تحریکات و افکار پر ٹھوس اور سنجیدہ اسلوب میں تبصرہ کرتا ہے اور مسلمانوں کے ملی حالات کا جائزہ بھی پیش کرتا رہتا ہے، یہ عرب ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور طلباء وعلماء نیز ممالک عربیہ کے بہت سے اہل ذوق حضرات کی نظر سے گذرتا ہے اور پسند کیا جاتا ہے، قارئین میں ایک خاصی تعداد خریداروں کی ہے، سولہ صفحات پر مشتمل یہ پرچہ ہر ماہ کی ابتداء اور وسط میں نکلتا ہے۔

تعمیر حیات
سال۱۹۶۳ء میں ایک پندرہ روزہ اردو پرچہ ’’تعمیر حیات‘‘ کے نام سے جاری کیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ مسلمانوں میں عمومی طور پر دینی وعلمی واصلاحی کاموں کو تقویت حاصل ہو، اسی کے ساتھ ساتھ یہ مقصد بھی پیش نظر تھا کہ ندوۃ العلماء کے اغراض ومقاصد کی توسیع واشاعت بھی ہو، ایک وقیع تعداد ہمدرد اور مخلصین کو اعزازی طور پر دی جاتی ہے، اس کی ادارت کے فرائض فضلاء دار العلوم انجام دیتے ہیں، اس کا سالانہ بدل اشتراک ۴۰۰؍ روپئے ہے۔ اس کے ایڈیٹر مولانا شمس الحق ندوی اور نائب ایڈیٹر مولانا محمد عمیر الصدیق دریا بادی ندوی ہیں۔

فریگرینس
(FRAGRANCE)
یہ ایک انگریزی ماہنامہ ہے، جسے مجلس صحافت نے ۱۹۹۹ء سے جاری کیا ہے، اس کا مقصد انگریزی داں حضرات کو اسلامیات سے واقف کرانا ہے، نیز اشاعت اسلام میں ندوۃ العلماء کے طریقۂ کار سے آشنا کرانا ہے، اس کے چیف ایڈیٹر جناب شارق علوی صاحب ہیں۔


