• shape

    علم، تحقیق اور تربیت کا روشن مرکز

    دارالعلوم ندوة العلماء

    قدیم و جدید علوم کے امتزاج کے ساتھ عالمِ اسلام کی فکری و علمی رہنمائی

0 +

سالہ علمی خدمات

ندوۃ العلماء

سال۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۲ء میں ایک ہمہ گیر علمی ودینی تحریک کی حیثیت سے ’’ندوۃ العلماء‘‘ کا قیام عمل میں آیا، اس تحریک نے بہت قلیل عرصہ میں پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی، ندوۃ العلماء کے جلسے جس شان و شوکت کے ساتھ ہوتے تھے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تحریک کی جڑیں اندرون ملک کتنی گہری اور اس کا دائرہ کار اور حلقۂ اثر کتنا وسیع تھا، یہ تحریک چند بنیادی مقاصد کے لیے سرگرم تھی، جن میں سے چند چیزیں یہ تھیں

  • علومِ اسلامیہ کے نصابِ درس میں بنیادی اصلاحات اور نئے نصاب کی تیاری۔
  • ایسے علماء تیار کرنا جو کتاب و سنت کے وسیع و عمیق علم کے ساتھ جدید حالات سے بخوبی واقف اور نبض شناس ہوں۔
  • اتحادِ ملّی اور اخوتِ اسلامی کے جذبات کو فروغ دینا اور نزاعِ باہمی کے فتنہ کا خاتمہ کرنا۔
  • اسلامی تعلیمات کی اشاعت، بالخصوص برادرانِ وطن کو اس کی خوبیوں سے واقف کرانا، ان کے سامنے اس کی ہمہ گیری اور پوری انسانی برادری کے لیے باعثِ رحمت ہونا واضح کرنا، اور اسلام سے متعلق پائی جانے والی وحشت کو دور کرنا۔

فارم برائے مدارس ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء 1447 ھ مطابق 2025 ء

آن لائن کتب کی خریداری

آن لائن عطیات

آن لائن دارالافتاء

آن لائن فیس کی ادائیگی

خبریں و اعلانات

مرکزی کتب خانہ

ندوة العلماء کے مجلات

ہمہ گیر فکر اور تحریک

اس تحریک کے بانی حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ (خلیفہ مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادیؒ) تھے، جن کی سرکردگی میں ملک کے ممتاز علماء ومشائخ کے طویل مشوروں کے بعد یہ ادارہ قائم ہوا تھا، شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے اس کے مقاصد میں کامیابی کی دعائیں فرمائی تھیں، ملک کے علماء کرام اور صلحاء کی ایک بڑی تعداد نے اس تحریک سے اتفاق کیا تھا اور اس کی تقویت کے لیے حسب استطاعت جدو جہد کی تھی ۔.

0

کتب خانے کی کُل کتب

0

طلبہ ہاسٹلز

0

شاخیں

0 +

زیرِ تعلیم طلبہ