شعبۂ دعوت و ارشاد
ندوۃ العلماء کے بنیادی مقاصد میں دعوت وارشاد ہے، مسلمانوں میں تصحیح عقائد، درستگی اعمال اور غیر اسلامی رسوم ورواج سے نجات دلانا اور غیر مسلموں میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا، اور اسلام پر ہونے والے حملوں اور غلط پروپیگنڈوں کا توڑ کرنا، اس کا بنیادی مقصد ہے، اس شعبہ کے تحت مختلف علاقوں میں علماء کرام کے اسفار، دینی کتابوں کی تقسیم، اصلاحی جلسوں کا انعقاد اور دینی کارکنوں کی تربیت کا انتظام ہے۔ شہر لکھنؤ کی مختلف مساجد میں دروس قرآن وخطابات جمعہ کا نظم بھی ہے، بچوں کی تعلیم کے لیے صباحی و مسائی مکاتب کے قیام اور تعلیم بالغان کے لیے مسجد مسجد کوشش کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ دینی موضوعات پر اصلاحی کتابچے بڑی تعداد میں شائع کیے جاتے ہیں۔ شہر کی مختلف مساجد کے ائمہ حضرات کی مشاورتی میٹنگیں بھی دارالعلوم ندوۃ العلماء میں رکھی جاتی ہیں جن میں بڑی تعداد میں ائمہ شریک ہوتے ہیں۔ جلسہ خواتین کا اہتمام اور غریب و ضرورتمندوں کے لیے بیت المال کا قیام جیسے اہم کام شامل ہیں، یہ سارے کام ائمہ مساجد کے ذریعہ انجام پارہے ہیں۔
اس وقت لکھنؤ کی ۷۸۰؍مساجد کے ذریعہ اصلاحی اور تربیتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ۵۸۰؍مساجد میں درس قرآن کا سلسلہ جاری ہے، منظم مکتب کا نظام ۷۰۰؍مساجد کے تحت چل رہا ہے، ۷۸۰؍مساجد میں خطابات جمعہ کا سلسلہ قائم ہے اور ۴۳۰؍مساجد کے تحت خواتین کے لیے دینی اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔
آزادی کے بعد سے ملک میں نفرت انگیز ماحول کو بہتر کرنے اور برادران وطن اور مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سابق ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریک پیام انسانیت کا آغاز کیا تھا، اس تحریک کے بڑے مثبت نتائج سامنے آئے، یہ تحریک بھی ندوۃ العلماء ہی کی سر پرستی اور رہنمائی میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔