دار القضاء
مسلمانوں کی دینی وملی رہنمائی اور باہمی نزاعات کے تصفیہ کے لیے عرصۂ دراز سے دار القضاء کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی، جس کی عمارت بحمد اللہ مکمل ہوگئی ہے، اب متعدد فقہاء ومفتیان کرام کی نگرانی میں کام ہو رہا ہے، مسلمان اس کی اہمیت محسوس کر کے اپنے عائلی مسائل کے حل کے لیے دار القضاء سے رجوع کر رہے ہیں، فقہی اعتبار سے غور وفکر کے بعد جن کے فیصلے کیے جارہے ہیں اور مسلمان سرکاری عدالتوں میں زیر بار ہونے کے بجائے دار القضاء کے نظام سے مستفید ہو رہے ہیں۔