سال ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۲ء میں ایک ہمہ گیر علمی ودینی تحریک کی حیثیت سے ’’ندوۃ العلماء‘‘ کا قیام عمل میں آیا، اس تحریک نے بہت قلیل عرصہ میں پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی، ندوۃ العلماء کے جلسے جس شان و شوکت کے ساتھ ہوتے تھے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تحریک کی جڑیں اندرون ملک کتنی گہری اور اس کا دائرہ کار اور حلقۂ اثر کتنا وسیع تھا، یہ تحریک چند بنیادی مقاصد کے لیے سرگرم تھی، جن میں سے چند چیزیں یہ تھیں
علوم اسلامیہ کے نصاب درس میں بنیادی اصلاحات اور نئے نصاب کی تیاری۔
ایسے علماء تیار کرنا جو کتاب وسنت کے وسیع وعمیق علم کے ساتھ جدید حالات سے بخوبی واقف اور نبض شناس ہوں۔
اتحاد ملی اور اخوت اسلامی کے جذبات کو فروغ دینا، نزاع باہمی کے فتنہ کو ختم کرنا۔
اسلامی تعلیمات کی اشاعت بالخصوص برادارن وطن کو اس کی خوبیوں سے واقف کرانا، ان کے سامنے اس کی ہمہ گیری اور پوری انسانی برادری کے لیے باعث رحمت بتانا اور اسلام سے ان کی وحشت دور کرنا۔