تعارف

سال ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۲ء میں ایک ہمہ گیر علمی ودینی تحریک کی حیثیت سے ’’ندوۃ العلماء‘‘ کا قیام عمل میں آیا، اس تحریک نے بہت قلیل عرصہ میں پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی، ندوۃ العلماء کے جلسے جس شان و شوکت کے ساتھ ہوتے تھے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تحریک کی جڑیں اندرون ملک کتنی گہری اور اس کا دائرہ کار اور حلقۂ اثر کتنا وسیع تھا، یہ تحریک چند بنیادی مقاصد کے لیے سرگرم تھی، جن میں سے چند چیزیں یہ تھیں
علوم اسلامیہ کے نصاب درس میں بنیادی اصلاحات اور نئے نصاب کی تیاری۔
ایسے علماء تیار کرنا جو کتاب وسنت کے وسیع وعمیق علم کے ساتھ جدید حالات سے بخوبی واقف اور نبض شناس ہوں۔
اتحاد ملی اور اخوت اسلامی کے جذبات کو فروغ دینا، نزاع باہمی کے فتنہ کو ختم کرنا۔
اسلامی تعلیمات کی اشاعت بالخصوص برادارن وطن کو اس کی خوبیوں سے واقف کرانا، ان کے سامنے اس کی ہمہ گیری اور پوری انسانی برادری کے لیے باعث رحمت بتانا اور اسلام سے ان کی وحشت دور کرنا۔
ہمہ گیر فکر اور تحریک
اس تحریک کے بانی حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ (خلیفہ مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادیؒ) تھے، جن کی سرکردگی میں ملک کے ممتاز علماء ومشائخ کے طویل مشوروں کے بعد یہ ادارہ قائم ہوا تھا، شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے اس کے مقاصد میں کامیابی کی دعائیں فرمائی تھیں، ملک کے علماء کرام اور صلحاء کی ایک بڑی تعداد نے اس تحریک سے اتفاق کیا تھا اور اس کی تقویت کے لیے حسب استطاعت جدو جہد کی تھی، ندوة العلماء کے مقاصد کی ترویج واشاعت کرنے والے ملک کے مشہور علماء یہ تھے
استاذ العلما مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ، علامہ شبلی نعمانیؒ، مولانا الطاف حسین حالیؒ، مولانا عبد الحق حقانیؒ، مولانا عبداللہ انصاریؒ، مولانا سید محمد شاہ محدّث رامپوریؒ، مولانا محمد فاروق چریاکوٹیؒ، مولانا خلیل الرحمن سہارنپوریؒ، مولانا محمد ابراهیم آرویؒ، مولوی رحیم بخشؒ، مولانا احمد حسن کانپوریؒ، مولانا شاہ سلیمان پھلوارویؒ، مولانا ظہور الاسلام فتحپوریؒ، شاہ محمد حسن الہٰ آبادیؒ، مولانا حبیب الرحمن خاں شروانیؒ (سابق صدر الصدور امورِ مذہبی، حیدرآباد، دکن)، مولانا ابو الکلام آزادؒ، منشی اطہر علی کاکوردیؒ، مولانا حکیم سید عبدالحی حسنیؒ اور مولانا فتح محمد تائب لکھنؤیؒ وغیرہ۔
ان بزرگوں کا پختہ عقیدہ تھا کہ اسلام ایک عالمگیر اور ابدی دین ہے، رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی اور اس کی دنیاوی اور اخروی کامیابیوں کا ضامن ہے اور اس میں زندگی کے ہر شعبہ کے لیے رہنمائی اور ہر مشکل کا حل موجود ہے، اس لیے ذہن انسانی کے ارتقا وتنزل اور اس کے تغیرات کی مختلف منزلوں سے اس کا سابقہ پڑنا، بدلے ہوئے حالات اور افکار میں رہنمائی کا فرض انجام دینا اور ہر دور میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو رفع کرنا اس کے لیے ایک قدرتی امر ہے، ایسے جامع ہمہ گیر اور جاوداں دین کے داعی اور اس کی تفہیم وتبلیغ کرنے والے افراد پیدا کرنے کے لیے ایسا نظام اور نصاب تعلیم مرتب کیا جانا چاہئے جس کا دائرہ برابر وسیع ہوتا رہے، جو ہر دور میں بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور زندگی کا ثبوت دیتا رہے، نظام تعلیم اسی وقت مفید اور کار آمد ہو سکتا ہے، جب وہ قدیم وجدید دونوں کی خوبیوں کا جامع ہو، اصول و مقاصد میں سخت اور بے لوث، فروعی مسائل میں وسیع اور لچکدار ہو، ترقی پذیر ہو، زمانہ کی تبدیلیوں اور تقاضوں کے مطابق (اپنی روح، مقاصد اور اساسی علوم کی حفاظت کے ساتھ) بدلتا اور ترقی کرتا رہے، یہ وقت کی ایک اہم ضرورت تھی اور اسی میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کا حل پوشیدہ تھا۔
ندوة العلماء کے ذمہ داروں نے محسوس کیا کہ یہ ضرورت اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب ایک مثالی مدرسہ قائم کیا جائے، جس میں ایسے علماء تیار کیے جائیں جو بنیادی دینی علوم میں مہارت کے ساتھ اپنے دور کے تقاضوں کو بھی سمجھتے ہوں، قدیم علوم میں رسوخ کے ساتھ جدید ذہن کے شکوک وشبہات دور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جو ایک طرف عقائد و عبادات میں ایک اٹل پہاڑ اور دوسری طرف علم وتحقیق اور پیش بینی میں ایک رواں دواں اور شیریں چشمہ ہوں، ایک طرف نصوص دین اور اس کی عزیمتوں کے لیے سرحد کے محافظ اور امانت کے نگراں ہوں تو دوسری طرف دین کی تبلیغ و تقسیم کے سلسلہ میں پرجوش مجاہد اور جدید ترین ذرائع سے لیس ہوں، جہاں دین کے حقائق و مقاصد کے بارے میں مصالحت یا نرمی کے روادار نہ ہوں، وہاں عصر جدید کے جائز تقاضوں کو پورا کرنے میں کسی جمود و تعصب کا بھی شکار نہ ہوں۔
خدمت علم و دین کے ۱۳۲ سال
اسی نیک مقصد کے لیے ندوۃ العلماء کے قیام کے چار ہی سال بعد ۳۱۵ه‍ مطابق ۱۸۹۸ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھی گئی، اس کی تعمیر وترقی میں ملت کے ممتاز اہل علم، صاحب فکر مخلص حضرات نے حصہ لیا، ان میں سرگروہ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ (خلیفہ مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادیؒ) ان کے علاوہ دیگر اصحاب علم واختصاص علماء کی کوششوں سے ایک جامع اور متوازن نصاب تعلیم مرتب ہوا اور بڑی حدت تک اس کا نفاذ عمل میں آیا، جس میں ایک طرف تو علوم دینیہ میں پختگی اور دوسری طرف عربی زبان وادب میں مہارت اور تیسری طرف علوم جدیدہ سے حسب ضرورت واقفیت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
علامہ شبلی نعمانی کی توجہ اور کوششوں سے علمی وتحقیقی ذوق کی طرف توجہ بڑھی اور مولانا سید عبدالحی حسنیؒ، مولانا حبیب الرحمن خاں شروانیؒ اور دیگر معاصر علماء نے ندوۃ العلماء کی علمی ترقی میں نمایاں حصہ لیا، ان کے بعد علامہ سید سلیمان ندویؒ جو ایک طرف علامہ شبلی نعمانیؒ کے نامور شاگرد تھے اور دوسری طرف حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ تھے، اس ادارہ کی علمی سرپرستی کی، دار العلوم ندوۃ العلماء میں ہندوستان کے مشہور ماہرین علم ودین کی خدمات حاصل کی گئیں اور ان کی وجہ سے نظام تعلیم وتربیت اور نصاب درس میں برابر اصلاح و ترقی ہوتی رہی، ندوۃ العلماء نے اپنی ضرورت اور نظریہ کے مطابق اپنی درسی کتابیں تیار کرنے کی طرف توجہ کی اور بڑی حد تک کامیابی حاصل کی، ندوۃ العلما علمی ودینی اور تدریسی میدانوں میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کی سر پرستی ورہنمائی اور نظامت میں ترقی کے منازل طے کرتا رہا، یہاں تک کہ لکھنؤ میں مرکزی دارالعلوم کے علاوہ ملک کے طول وعرض میں اس کے ملحقہ مدارس خدمت علم ودین انجام دے رہے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ ندوۃ العلماء نے اپنی عمر کے تقریبا ایک سو بتیس (۱۳۲) سال بخیریت و خوبی پورے کر لیے، اس ایک صدی کی مدت میں ندوۃ العلماء نے بڑی اہم اور قیمتی دینی وعلمی خدمات انجام دیں، قدیم وجدید کی کشمکش کو دور کرنے کی کامیاب کوشش کی اور ندوی فضلاء مسلمانوں کے ان دونوں طبقوں کے درمیان باہمی تعارف و تعاون کا سبب بنے، انھوں نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہتے ہیں اور نہ زندگی کے سمندر میں کسی جزیرہ پر پناہ گزیں ہیں، چنانچہ ان میں ادبا، محققین، ملکی زبان میں لکھنے والے اور معاشرتی رہنما بھی ہوئے جو زندگی کی سرگرمیوں میں برابر شریک رہے، ان میں بعض ایسے بھی ہوئے جنھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کے لیے ایک پورا کتب خانہ تیار کردیا اور تن تنہا وہ خدمت انجام دی جو ایک پوری اکیڈمی کا کام ہے، اندرون ملک کے علاوہ عالم اسلام کے مختلف ممالک میں اس کے فضلاء نے ملت کی علمی ودینی خدمات انجام دیں اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ سلسلہ روز افزوں ترقی پر ہے، ملک کے علمی اور زندگی کے اکثر شعبوں میں اس وقت ندوۃ العلماء کے فضلاء دینی وعلمی امتیاز کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں اور بیرون ملک متعدد ممالک اسلامیہ میں اسلامی اداروں اور یونیورسٹیوں میں دینی وعلمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء پر امت اسلامیہ کا اعتماد اور اس کی توجہ روز بروز بڑھتی جارہی ہے، چنانچہ طلبہ کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے، اس وقت دارالعلوم میں اور ندوۃ العلماء کے زیر انتظام مکاتب ومدارسِ شہر میں طلباء کی تعداد چھ ہزار سے زائد ہے، جن کی تعلیم مفت ہے اور ان میں سے بیشتر طلباء کے قیام و طعام کے مصارف بھی دارالعلوم برداشت کرتا ہے۔